بارشیں سیلاب اور تباہ کاریاں

ھمارے ملک میں کبھی بارشیں ،کبھی زلزلے، کبھی سیلاب اور پھر تباہی کاریاں در حقیقت اس میں کوئی شک نہیں یہ قدرتی آفات ہیں لیکن افسوس کا مقام ھے کہ ھمارے حکمرانوں نے صاحب اقتدار طبقے نے ان آفات سے نمٹنے کےلئے کیا اقدامات کئیے ہیں کچھ بھی نہیں یہ صرف اور صرف دوسرے ممالک کی طرف سے آنے والی امداد کے منتظر رہتے ہیں یہی بات ھمارے لئیے اور ھمارے حکمرانوں کے لئیے لمحہ فکریہ ھے اب اسی حالیہ سیلاب کو ہی مدد نظر رکھا جائے تو اس میں حکمرانوں کی غفلت اور نااہلی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ھے مثال کے طور پر 2010 میں دریائے سندھ میں جو سیلاب آیا اس میں متعلقہ اداروں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ضلع کوٹ ادو سے لیکر علی پور تک پورا ضلع مظفرگڑھ اس سیلاب کی لپیٹ میں آیا اور اس سیلاب نے تباہی پھیر کر رکھ دی اس سیلاب کو کنٹرول کرنے میں جو خامیاں کوتاہیاں اور نااہلیاں پھر سے زیر مباحثہ لائی جائیں گی ابھی اس 2010 کےسیلاب کی تباہی کاریوں کے اثرات اور لگے زخم مندمل نہیں ھوئے تھے کہ2014 میں دریائے چناب میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی محمد والا اور شیرشاہ کے مقام پر روڈز کو کٹ لگا کر پلوں کو بچایا گیا آج پھر سے 2025 کے سیلاب نے تو پورے پنجاب میں تباہی مچا دی ھے ہیڈ مرالہ قادر آباد خانکی سلیمانکی تریموں بیراج پر انتہائی سے بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ھے اور تاریخ کا بہت بڑا ریلا آج یا کل ملتان سے گزرنے والا ھے تو بات ہورہی تھی قدرتی آفات اور اس کا سد باب اسی حوالے سے کبھی ھم کہتے ہیں گرمیوں میں بھارت نے پانی چھوڑ دیا سیلاب آگیا پھر کہتے ہیں سردیوں میں بھارت نے پانی بند کردیا فصلیں تباہ ھو گئیں سوال یہ ھے کہ ھم نے ان حالات سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کئیے ہیں بلکہ یہ زلزلے یہ آفات یہ سیلاب ھماری آمدنی کا ذریعہ بن کر آتے ہیں کیوں جو دوسرے ممالک ھمیں امداد بھیجتے ہیں اور ہم بھکاری قوم بڑی خوشی سے اس خیرات کو من و سلوا سمجھ کر اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں ہاں تو بات ھو رہی تھی 2012-13 کے سیلاب کی وجہ سےاس وقت جب پانی کا دباؤ بڑھا تو محمد والا اور شیر شاہ کے مقام پر کٹ لگا دئیے گئے جس کی وجہ سے ملتان کا رابطہ بلوچستان ،کے پی کے اور پنجاب کے مختلف اضلاع ڈی جی خان ،مظفرگڑھ کوٹ ادو ، لیہ ،کروڑ ،تونسہ ڈی آئی خان وغیرہ وغیرہ سے مکمل طور پر منقطع ھو گیا راستے بند ھونے کی وجہ مریض اپنے ہی گھروں پر بے یارو مدد گار تڑپتے رھے اور بہت بڑی تعداد میں اموات بھی واقع ھوئیں پھر کیا ھوا سیلاب کے ختم ھونے پر ان راستوں کو بحال کرنے میں کئی مہینے لگ گئے اور کروڑوں روپے کے خطیر فنڈز سے خدا خدا کرکے کہیں جاکر یہ بحالی ممکن ہوسکی اب پھر سے اس آمدہ سیلابی پانی کی وجہ سے اسی مقام پر دوبارہ سے بارود نصب کردیا گیا ھے اور جو صورت حال سامنے آرہی ھے کوئی بعید نہیں کہ بلاسٹ کر دیا جائے اور پھر سے وہی راستے بند اور سابقہ کی طرح سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا میری ارباب اقتدار، تجربے کار انجنیئرز متعلقہ اداروں کے زمہ داران سے دردمندانہ اپیل بھی ھے اور تجویز بھی کہ اب جس جگہ پر اس وقت کٹ لگایا جارہا ھے آئیندہ کیلئے حکمت عملی طے کرتے ھوئے اسی جگہ پر ریگولیٹر تعمیر کیا جائے جیسا کہ دریاؤں پر نہروں کو پانی کی سپلائی کےلئے ریگولیٹر بنائے جاتے ہیں صرف یہاں نہیں پورے پنجاب میں جہاں جہاں روڈز یا ریلوے ٹریک کٹ کئیے گئے اور بریچنگ سیکشن ہیں ان تمام جگہوں پر ریگولیٹر بنائے جائیں اس سے ایک تو ہر دفعہ کے ممکنہ آمدہ سیلاب کی وجہ سے کٹ نہیں لگانے پڑیں گے اور یہ گیٹ بوقت ضرورت کھول دئیے جائیں گے دوسرا کروڑوں روپے کی خطیر رقم کا خزانے پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا تیسری بات جو یہ راستے ہیں یہ بھی کھلے رہیں گے اور عوام الناس کو اس ازیت ناک تکلیف سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا میری یہ تجویز اہل اقتدار اور زمہ داران کے لئے توجہ طلب ھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے