معاشرتی مزاق اور عزت نفس۔

انسانی معاشرے میں تعلقات کی بنیاد حسن سلوک اور اپنی احترام پر قائم ھے اگر لوگ ایک دوسرے کے جذبات اور عزت نفس کا خیال نہیں رکھیں گے تو معاشرتی رشتے کمزور پڑ جائیں گے۔ مزاق ایک ایسا رویہ ھے جو باہر تو ہنسی خوشی کےلئے کیا جاتا ھے لیکن اگر یہ حد سے تجاوز کر جائے تو انسان کی عزت کو ٹھیس پہنچتی ھے معاشرتی زندگی میں عزت نفس وہ قیمتی دولت ھے جس کے بغیر انسان اپنی پہچان کھو بیٹھتا ھے ۔ مزاق اور مزاح انسان انسانی فطرت کا حصہ ھے خوش طبعی اور مسکراہٹ دوسروں کے دل جیتنے کا ذریعہ ھے ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کے ساتھ خوش طبعی فرماتے تھے لیکن آپ کی مزاح میں کسی کی بھی کبھی دل آزاری شامل نہ ھوتی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ھے (اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی) سورۃ بنی اسرائیل جب خالق دو جہان نے انسان کو عزت سے نوازا ھے تو کسی کو بھی ی حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کا تمسخر اڑائے یا تضحیک کرے ۔ بد قسمتی سے آج ھمارے معاشرے میں مزاق اکثر دوسروں کی کمزوریوں جسمانی نقائص یا مالی حالت پر کیا جاتا ھے ایک دوسرے کا نام بگاڑنا سوشل میڈیا پر دوسروں کی شکل و صورت اور حالات زندگی کا طنزیہ ذکر کرنا عام ھو چکا ھے جس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ھورھے ہیں ضرورت اس امر کی ھے کہ ہمیں اپنی گفتگو اور مزاق کو اعتدال اور خوش اخلاقی کے دائرے میں رکھیں اور ایسے الفاظ نہ بولیں جس کی وجہ سے کسی دوسرے بھائی کی دل آزاری ھو یا عزت نفس مجروح ھو ۔ ایک دوسرے کی عزت نفس کی حفاظت ھماری معاشرتی اور اخلاقی زمہ داری ھے اور ہمیں دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے