انڈیا کی طرف سے چھوڑے گئے پانی سے آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی ہائی الرٹ جاری۔

انڈیا کی طرف سے چھوڑے گئے پانی نے سیلاب کی صورت اختیار کرلی اس سیلاب کے خطرے کے پیش نظر نارووال،شکرگڑھ،لاھور،شیخو پورہ ،ننکانہ صاحب،اوکاڑہ،ساہیوال، پاک پتن،ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد ،جھنگ، قصور، ملتان، وہاڑی، خانیوال، سیالکوٹ،ڈسکہ ،سمبڑیال،گجرات،کھاریاں، گوجرانوالہ ، حافظ اباد، منڈی بہاؤالدین، چنیوٹ، سرگودھا اور کوٹ مومن کے بیشتر علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ھے دریا کے ارگرد رہنے والوں کو خبردار کیا گیا ھے کہ اگلے 12 گھنٹے بہت ہی اہم ہیں ان علاقوں میں سیلاب کے خطرات منڈلا رھے ہیں اور لوگوں کو مطلع کیا گیا ھے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ھو جائیں ملتان میں دریائے چناب کے آس پاس رہنے والے اپنی نقل مکانی کی تیاری مکمل کرلیں اس وقت ہیڈ مرالہ پر 9 لاکھ اور دریائے راوی سے سوا دو لاکھ کا سیلابی ریلا گزر رہا ھے وزیر آباد 9 لاکھ 77 ھزار اور وزیر آباد کے ارد گرد 10 لاکھ کا ریلا ریکارڈ کیا گیا ھے جس کے اثرات ملتان مظفرگڑھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں دوسری طرف ملتان کو بچانے کےلئے ایمرجنسی صورت حال میں رنگ پور سے علی پور تک پانی کو راستہ دینے کے لئے مختلف مقامات پر کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ھے آرمی ہیڈ کوارٹر کو بچانے کے لئے پانی کا رخ خبروں کی طرف کردیا جائے گا اس ضمن میں ڈی سی مظفر گڑھ نے ایک ہنگامی میٹنگ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ھوئے کہا ھے کہ اگر رنگ پور تک چناب راوی اور ستلج اور سندھ کا پانی 7 سے 8 لاکھ تک رہا تو صرف بیٹ کے علاقے متاثر ھونگے اگر اس سے تجاوز کرنے کی صورت میں رنگ پور، مظفرگڑھ، شھر سلطان، میر ہزار،علی پور اور جتوئی کو سخت خطرات لاحق ھونے کا اندیشہ ھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے